20 نومبر 2012 - 20:30

آج اسلام کو بھی مکار دشمنوں سے زیادہ نادان دوستوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے لیکن اسکا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس ظاہری دشمن کو نظر انداز کر دیا جائے بلکہ اس دشمن کی شناخت اور مقابلہ انتہائی ضروری ہے۔

اپنے اہداف کے حصول کیلے تبلیغ بہترین وسیلہ ہے۔ تبلیغ کے اہداف سیاسی بھی ہو سکتے ہیں اور مذہبی بھی، اقتصادی بھی ہو سکتے ہیں اور ثقافتی بھی غرضیکہ ہر شخص یا گروہ اس وسیلے سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ خصوصا آج کے اس ترقی یافتہ دور میں اسکی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ مختصر یہ کہ تبلیغ آج کے دور میں ترویج و تخریب کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ جو تبلیغ تخریب کےلیے ہو اسکو پراپیگنڈہ کہا جاتا ہے یا ہم اس کو تبلیغ سوء یا تبلیغ بد سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں ۔ کسی کے خلاف تبلیغ سوء عموماً دشمنوں کی جانب سے کی جاتی ہے۔ جیسا کہ آج کل پیغمر اسلام اور قرآن کے خلاف دشمنان اسلام مصروف ہیں۔ لیکن کبھی کبھی یہ تبلیغ سوء دشمنوں کی طرف سے نہیں بلکہ نام نہاد دوستوں، اپنے ہی سادہ لوح لوگوں اور ناسمجھ طرف داروں یا مخفی دشمنوں کی طرف سے شروع ہوجاتی ہے۔ یہ تبلیغ بظاہر ہمدردی اور خلوص کے لبادے میں اصلاح اور تعمیر کی خاطر کی جاتی ہے لیکن اس کا نتیجہ تخریب، کردار کشی، غیبت اور باہمی سرد مہری کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ اسکا نقصان بھی دشمن کی تبلیغات سے کہیں زیادہ ہے ۔ اسی لیے کہاجاتاہے کہ دانا دشمن نادان دوست سے بہتر ہے۔ آج اسلام کو بھی مکار دشمنوں سے زیادہ نادان دوستوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے لیکن اسکا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس ظاہری دشمن کو نظر انداز کر دیا جائے بلکہ اس دشمن کی شناخت اور مقابلہ انتہائی ضروری ہے۔ لیکن اس سے اسلام کو زیادہ خطرہ نہیں؛ کیونکہ بسا اوقات ممکن ہے کہ یہ ظاہری دشمنوں کی دشمنی سے اسلام کو فائدہ ہی پہچ جائےجیسا کہ 11 ستمبر کے بعد جو حملے اسلام پر ہوئے اسکے بعد مغربی دنیا میں اسلام اور زیادہ تیزی سے پھیلا اور لوگوں پر بہت تیزی کے ساتھ اسلام کی حقیقت آشکار ہوئی۔ لیکن اسلام کو جو نقصان اپنے کلمہ گو نادانوں کی سوء تبلیغ سے پہنچا اتنا دشمن کی تبلیغ سوء سے نہیں پہنچا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کرنے والے یا تو خود اسلام سے نا آشنا اور جاہل ہیں اور یاپھر اتنے کوڑھ مغز، ضدی اور متعصب ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اصلاح کے قابل اور لائق سمجھتے ہی نہیں۔ یہ اسلام کومتعارف نہیں کرواتے بلکہ اپنی کٹر اور خشک واہیات و خرافات کو اسلام کی نام پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ کوئی انہیں پوچھنے روکنے اور ان کی تردید کرنے والا نہیں۔ یہ اپنی سفّاکانہ وارداتوں اور احمقانہ بیانات کے باعث دنیا کے سامنے اسلام کو دین محبت کے بجائے دین نفرت بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسلام کے نام پر ضدِ اسلام تعلیمات کا پرچم اٹھا رکھاہے، انہوں نے اسلام جیسے علمی دین کودینِ جہالت بنا کر پیش کیا ہے۔ اسلام جو آزادی، مساوات اور عدالت کا علمبردار اسے ضد آزادی و مساوات و عدالت کہہ کر اس کی تبلیغ کر رہے ہیں اور وہ افکار جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں انہیں اسلام کی تعلیمات کے طور پر دھڑلے کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ مسلمان حکمرانوں کاطرز عمل بھی اسلام اور قرآن کے برعکس بالکل برعکس ہے۔ اب رہ گئی بیچاری عوام تو عوام کو کبھی حکمران استعمال کرتے ہیں اور کبھی اسلام کے نام نہاد ٹھیکدار۔ اب اگر اسلام کی اس تبلیغ سوء کے تناظر میں دیکھا جائے تو صاف پتہ چلتاہے کہ آج دنیائے غرب میں جو اسلام اور پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ کی توہین کی گئی اسکے اصلی مجرم ہم خود ہیں اور ہی ماری ہی صفوں میں گھسے ہوئے غدار ہیں۔ یہ لوگ خود دشمن کے سامنے اسلام کا منفی چہرہ بناکر ساری دنیامیں دکھارہے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے سامنے پیغمبر صلی اللہ علیہ ... اسلام کو متعارف ہی نفرت آمیز انداز میں کرایاہے۔ اگر پیامبر ص کو بعنوان اسوہ حسنہ پیش کیا جاتا تو کسی کو جرأت نہ ہوتی کہ وہ پیامبر ص کی توہین کرتا۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شان میں نعتیں تو پڑھتے ہیں لیکن جب ہمارے سامنے پیغمبر صلی اللہ علیہ ... کے دین کے ٹھیکیدار کہلانے والے پیغمبر صلی اللہ علیہ ... کی امت کو گمرا ہ کرتے ہیں، فرقہ واریت کو پھیلایاجاتاہے، لوگوں کے گلے کاٹے جاتے ہیں، بم دھماکے کر کے بے گناہوں کو خاک و خون میں غلطاں کیا جاتاہے تو ہم خا موش رہ کر ان سارے کاموں کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ وہ تبلیغ سوء ہے جو ہم لوگ عملی طور پر خود پیغمبر اسلام کے خلاف کر رہے ہیں اور اس کا سارا فائدہ دشمنان اسلام کو پہنچ رہاہے۔ ہمارے دینی ٹھیکیدار اپنے متعصب رہبروں کے نظریات تو ہر وقت بیان کرتے ہیں لیکن پیغمبر اسلام کے افکار و نظریات پر بحث و گفتگو اگر کی بھی جائے تو صرف اپنے ہی فرقے کی بالادستی کو ثابت کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ کیا ا"سوہ حسنہ" سے مراد یہ ہے کہ صرف پیغمبر (ص) کی شان میں نعتیں پڑھیں، تقریریں کریں اور غیرمسلموں کو توہین پیغمبر (ص) کی سزا دلانے کے لئے جلوس نکالیں۔ آج دنیا میں اگر اسلام، قرآن اور پیامبر ص کی توہین ہوتی ہے تو ہمیں بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا کہ اس مسئلے میں ہم سب کس قدر قصور وار ہیں اوراس جرم میں ہم کتنے شریک ہیں۔ ... ... ... ... /110